اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عراق کی عوامی رضاکار فورس الحشد الشعبی کے مذہبی اور ثقافتی امور کے سربراہ حجۃ الاسلام سید ہاشم الحیدری نے اربعین حسینی سے متعلق سرگرم کمیٹیوں کے کارکنوں کی دوسری بین الاقوامی کانفرنس میں جوکہ عراق و ایران کی سیاسی و مذہبی شخصیات کی شرکت سے آستان قدس رضوی کے قدس ہال میں منعقد ہوئی تھی کہا: اگر حضرت زینب (س) نہ ہوتیں ، تو کربلا کا نام ونشان نہ ہوتا ، حضرت زینب(س) نے اپنی شجاعت و اخلاص کے ذریعہ کربلاکو زندہ رکھا اور آج ہم پر ذمہ داری عائدہوتی ہے کہ اربعین حسینی کے موقع پر حضرت زینب (س) کے پیغام کو دنیاوالوں تک پہنچائیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ حضرت زینب(س) سے منسوب انجمنیں اربعین کے پیغام کو پہنچائیں، مزید کہا کہ تمام موکب، اربعین کے پیغام کے حامل بنیں اور حضرت زینب(س) کے پیغام کو دنیاوالوں تک پہنچائیں۔
عراق کی عوامی رضاکار فورس الحشد الشعبی کے مذہبی اور ثقافتی امور کے سربراہ نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ تمام موکبوں کی توجہ دنیوی امور کے بجائے اربعین کی معنویات کی طرف ہونی چاہئے کہا کہ موکبوں کو چاہئے کہ سجاوٹوں ، اچھے اچھے پکوان ، کھا نوں اور زوق و برق پر توجہ دینے کے بجائے اربعین اور حضرت زینب سلام اللہ علیھا کے پیغام کو سوفیصد دنیا والوں تک پہنچائيں
انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ داعش کے قبضے کے زمانے میں عراقی موکبوں کے بانیوں کی اکثریت جنگی محاذوں پر چلی گئی تھی کیونکہ اس وقت ان کے لئے اربعین کامعنی و مفہوم محاذ جنگ پر مجسم ہورہا تھا کہا کہ وہ لوگ ان دشمنوں کے مقابلے میں جنگ پر گئے کہ جو اہل بیت علیہم السلام کے سامنے کھڑے ہوئے تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اربعین ، استقامت ومقابلے کے بغیر بے معنی ہے۔
ہاشم الحیدری نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ حشد الشعبی اور ایرانی جوانوں نے محاذ جنگ پر استقامت و ثابت قدمی کا مظاہرہ اور اپنے خون کا نذرانہ پیش کرکے اربعین کی حفاظت کی کہاکہ اربعین کا مفہوم استقامت کے محاذ پر مجسم ہوتا ہے جبکہ سامرا، شلمچہ ، لبنان ، شام ، بیت المقدس اور اسلامی جمہوریہ کے دفاع میں جہاد و استقامت اور اس وقت یمن کی حمایت سے ہی کل یوم عاشورا اور کل ارض کربلا کی صحیح تفسیر ممکن ہے ۔
عراق کی عوامی رضاکار فورس الحشد الشعبی کے مذہبی اور ثقافتی امور کے سربراہ نے مزید کہا کہ روز قیامت ہم سے سوال ہوگا کہ ہم نے شام اور یمن کے حق میں کیا کیا ؟ اربعین میں ہمارا امتحان شام اور عراق کی ہی طرح یمن کی بھی حمایت کی صورت میں ہے
/129